100

ساہیوال کے ’نامعلوم‘ قاتل اور ’معلوم‘ لاشیں۔ عاصمہ شیرازی

لفظ گنگ ہیں اور سسکیاں بے آواز، ساہیوال میں مارے جانے والے بے گناہوں کا خون کس کے سر ہے؟ کون ذمہ دار ہے؟

ایف آئی آر ’نا معلوم‘ افراد کے نام کاٹی گئی ہے، معلوم ہیں تو صرف لاشیں۔ بے جان، خون میں لت پت لاشیں، ’دہشت گردوں‘ کی لاشیں، تیرہ سالہ بچی، ماں، باپ اور دہشت گرد ٹیکسی ڈرائیور کی لاشیں۔

انسانوں سے لاشیں بننے میں انھیں محض درجن بھر گولیاں ہی تو استعمال ہوئی ہیں۔ اور ہاں زندہ بچ جانے والی لاشیں، دو معصوم بچیاں جن کی حیران آنکھیں جیسے دیکھے ہوئے سانحے سے نظریں چرا رہی ہوں اور ننھا عمیر جو بتا بتا کر ہلکان ہے کہ اس کے باپ نے آخری بار زندگی کی بھیک کیسے مانگی تھی۔

انصاف ہوتا دکھائی دے گا یہ الفاظ سن سن کر کان پک گئے ہیں، یہ جملے خروٹ آباد واقعے، نقیب اللہ محسود اور ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو معصوم شہریوں کے قتل اور جانے کتنی ہی بار سنے گئے ہیں مگر انصاف کو نظر بد سے بچانے کے لئے سنبھالے رکھا۔

جہاں ریاست چاہے کہ انصاف ہوتا دکھائی دے وہاں انصاف عدالت میں خود پہنچ کر خود کو یقینی بناتا ہے جیسے ریمنڈ ڈیوس کیس میں ہوا۔

ساہیوال کے معصوموں کو انصاف کون دلائے گا، نقیب اللہ محسود ایک” طاقتور “قبیلے کا نوجوان تھا۔ سارے قبائلی اُس کے لئے انصاف مانگ رہے ہیں یہاں تک کہ اس ایک واقعے نے پشتون تحفظ تحریک کو جنم دیا، پھر بھی محض ایک پولیس افسر راؤ انوار تک کو کوئی مائی کا لال ہاتھ نہیں لگا سکا۔ حالانکہ ہم نے بار بار اعلیٰ عدالت کی زبانی سُنا کہ ’انصاف ہوتا دکھائی دے گا‘۔

ایک پولیس اہلکار کا احتساب نہیں ہو سکا تو یہاں تو بقول وزیر قانون پنجاب آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن تھا۔ وزیراعظم کی صدمے سے بھری ٹویٹ میں یقین دلایا گیا ہے کہ انصاف ضرور ہو گا مگر کاش وہ جانے سے پہلے ایف آئی آر میں سے لفظ نامعلوم ہی نکلوا دیتے۔۔۔

جس واقعے کی فوٹیج بچے بچے نے دیکھ رکھی ہے اور قاتلوں کی بغیر نمبر پلیٹ گاڑی، سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار، بے نقاب چہرے جنھیں پوری قوم دیکھ چکی اُن کے تو نام تک ایف آئی آر میں درج نہیں کرائے جا سکے باقی کیا کریں گے۔ ہمت ہے تو ذرا ان نامعلوموں کے نام معلوم کر کے قوم کو بتا دیں یہ ہی انصاف ہو گا۔

جناب وزیر اعلی بزدار صاحب کے نصیب پر رشک آتا ہے اور آج تک ان کی حیران آنکھیں اس کہاوت پر یقین دلاتی ہیں کہ کس طرح شہر میں گھسنے والا پہلا شخص بادشاہ بن جاتا ہے۔

وزیراعلی پنجاب انکوائری رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں اور وزیراعظم انصاف دو دن کے لئے ملتوی کر کے بیرون ملک دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ انھیں یقین ہے کہ نئے پاکستان میں عوام انصاف ہوتا دیکھیں گے حالانکہ یہ کہتے ہوئے اُن کا لہجہ الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا۔

ایک اور جے آئی ٹی کی تشکیل ہو چکی ہے، جے آئی ٹی کا فیشن بھی عروج پر ہے۔ واضح شواہد کے باوجود جے آئی ٹی کی تشکیل محض نظر کا دھوکا ہے، اس سانحے کا انجام بھی گزشتہ سانحوں سے الگ نہیں ہو گا۔ مایوس ہوتی ریاست کو بچانے کے لئے کسی ایک کیس کو تو ٹیسٹ کیس بنانا ہو گا ورنہ کوئی تحریک جنم نہ بھی لے تو کم از کم اداروں سے نفرت اور عدم اعتماد سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں