162

کوہاٹ پولیس نے مدرسے کے دو طالبعلموں کے دوہرے قتل کیس کا سراغ لگا لیا

کوہاٹ پولیس نے مدرسے کے دو طالبعلموں کے دوہرے قتل کیس کا سراغ لگا لیا

کوہاٹ پولیس کے دینی مدرسے کے دو طالبعلموں کی اندھے قتل کا سراغ لگالیا ہے۔ دوہرے قتل کی واردات میں ملوث انکے ساتھی طالبعلم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم نے محض معمولی رنجش پر اپنے ساتھی طلباء کو فائرنگ کرکے بے دردی سے موت کی نیند سلا دیا ہے۔مقتولین اور ملزم کے مابین مدرسے میں تکرار پر لڑائی ہوئی تھی جس پر دونوں کو شاہ پور کی باغات کے قریب فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور جرم چھپانے کیلئے موقع واردات سے فوری طور پر فرار ہوکر روپوش ہوگیا۔ زیر حراست ملزم نے خون آشام واردات کا اعتراف جرم کرتے ہوئے اپنے کئے پر پشیمانی کا بھی اظہار کیا ہے۔ ڈی ایس پی سٹی بشیر داد نے ایس ایچ او تھانہ سٹی فیاض خان کے ہمراہ دوہرے قتل کی اندوہناک واردات میں ملوث ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 9 فروری کی شام مقامی پولیس کو نواحی علاقہ شاہ پور کی باغات کے قریب سے دو باریش نوجوانوں کی لاشیں ملی جسے تحویل میں لیکر شناخت اور پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ مقتولین کی شناخت 27 سالہ لقمان اور 23 سالہ محمد حسن ساکنان جنگل خیل کے ناموں سے ہوئی اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں مقتولین مقامی دینی مدرسے کے دورہ حدیث کے طالبعلم تھے۔ پولیس نے مقتولین کے لواحقین کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ تھانہ سٹی میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا اور دوہرے قتل کے اس واردات کی مختلف پہلوؤں پر تحقیقات شروع کر دی گئی۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ ڈی پی او کوہاٹ کیپٹن (ر) منصور امان نے بلا تاخیر انکی سربراہی میں ایس ایچ او فیاض خان، انوسٹی گیشن آفیسر انور شاہ اور دیگر ماہر پولیس افسران پر مشتمل خصوصی سراغ رساں ٹیم تشکیل دیتے ہوئے ملوث ملزمان کو بے نقاب کرکے جلد گرفتاری کا ٹاسک حوالے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی سراغ رساں اور تفتیشی ٹیموں نے جائے واردات کا دورہ کرتے ہوئے مختلف فارنزک شواہد قبضے میں لے لئے اور سنجیدگی سے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ڈی ایس پی نے بتایا کہ پولیس نے شبانہ روز جانفشانی سے فرائض انجام دیتے ہوئے جدید طریقہ تفتیش سے استفادہ کرتے ہوئے دوہرے قتل کی اس واردات میں ملوث ملزم عطاء محمد ولد خان محمد سکنہ تورہ وٹی ہنگو جو کہ مسجد ابوبکر یونس خیل کوہاٹ میں پیش امام ہے کا کھوج لگا کر انہیں گرفتار کرلیا۔پولیس نے ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ملزم کے اعتراف جرم کے بعد اسکی نشاندہی پر قتل کی واردات میں استعمال ہونیوالی پستول بمعہ کارتوس اور موٹر سائیکل برآمد کرکے قبضے میں لے لی۔ ڈی ایس پی بشیر داد نے بتایا کہ پولیس کو دئیے گئے بیان میں ملزم نے اپنے ساتھی طالبعلموں کو مدرسے میں ہونیوالی لڑائی کی رنجش پر موت کے گھاٹ اتارنے کا اعتراف کرلیا ہے۔ ملزم نے اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ انکے اور مقتولین کے مابین وقوعہ کے روز مدرسے میں ظہر کے وقت لنگر کی تقسیم کے دوران تکرار پر لڑائی ہوئی تھی اور جب وہ شام کے وقت چھٹی کرکے مسجد ابوبکر واقع یونس خیل جا رہا تھا تو مقتولین نے شاہ پور کے باغات کے قریب انکا راستہ روک کر ان سے مشت و گریبان ہونے کی کوشش کی لیکن انہوں نے پستول نکال کر دونوں کو فائرنگ کرکے ابدی نیند سلا دیا اور اپنی موٹر سائیکل پر فوری طور پر جائے وقوعہ سے فرار ہوکر روپوش ہو گیا۔ ڈی ایس پی بشیر داد نے مزید بتایا کہ زیر حراست ملزم کو تھانہ سٹی میں درج دوہرے قتل کی اس مقدمے میں باقاعدہ طور پر نامزد کر دیا گیا ہے جسے بعد ازاں مقامی عدالت کے سامنے پیش کرکے اسکا دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے اور ملزم کو مزید پوچھ گچھ کیلئے تفتیشی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوہرے قتل کی اس اندھے واردات کا چوبیس گھنٹے کی قلیل وقت میں سراغ لگانے پر پولیس کی اس کامیاب کارروائی کو عوام میں بے حد پزیرائی ملی ہے اور علاقے کے لوگوں نے پولیس کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں