262

قبائلی اضلاع میں منشیات ناقابل برداشت ہیں۔ آئی جی پولیس

قبائلی اضلاع میں پوست اور بھنگ کی فصلیں اپنے زمینوں پر کاشت کرنا اور منشیات کی سمگلنگ کرنا تجارت نہیں بلکہ قانوناً ملکی اوربین الاقوامی جرم ہے لہٰذا قبائل اس کی بجائے گندم اورمکئی کی فصلیں کاشت کریں۔سبزیوں اور پھلوں کے باغات لگائیں تاکہ انہیں جائز روزگار کے مواقع مل سکیں۔

یہ باتیں آئی جی پی خیبرپختونخوا ڈاکٹرثناء اللہ نے اپنے دفتر میں اورکزئی میڈیا پرسنز کے ساتھ انٹرویو کے دوران بتائیں۔اس موقع پرآئی جی پی نے کہا کہ ان علاقوں سے منشیات کاخاتمہ کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ 80فی صد لیویز اور خاصہ دار فورس پولیس میں ضم ہو چکی ہے جبکہ باقی 20فی صد بھی جلد ضم ہو جائے گی۔ اس وقت قبائل میں سرحد پار سے دہشت گردی کم ہوئی ہے اس کی بڑی وجہ پولیس کاقیام اور سرحدوں پر پاک فوج کی طرف سے باڑ لگانا ہے۔ قبائلی اضلاع میں اربوں روپے کی لاگت سے پولیس تھانے،پولیس لائنز و دیگر دفاتر بنائے جائیں گے۔ آئی جی پی نے کہا کہ کرونا ایک حقیقت ہے اس کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام اور پولیس نظام رائج ہونے کے بعد گزشتہ70سال سے محروم قبائل کو اپنے حقوق ملنے شروع ہو گئے ہیں۔فاٹا انضمام کے بعد پولیس عدالتی نظام و دیگر صوبائی محکمے آنے کے بعد قبائلی اضلاع میں امن بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ قبائل کی ترقی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ فاٹا انضمام سے قبائلی اضلاع تعلیم،صحت اور ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے ترقی یافتہ ضلعوں کی صف میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد اورپاک افغان سرحد پر پاک فوج کی طرف سے باڑ لگانے اور پولیس آنے سے سرحد پار دہشت گردی میں کمی آئی ہے اور جرائم کم ہو گئے ہیں۔بعض قبائلی اضلاع میں دہشت گرد حالات خراب کرنے کے لئے افغانستان سے رابطے کر رہے ہیں مگر اندرون طور پر حالات بہتر ہیں۔انہوں نے قبائلی عوام سے اپیل کی کہ پوست اور بھنگ کی فصلوں کی بجائے گندم مکئی کی فصلیں کاشت کریں سبزیوں اور پھلوں کے باغات لگائیں۔زمین داری کو ترجیح دیں۔ قبائلی اضلاع میں منشیات ناقابل برداشت ہیں۔ اس سے ہماری آنے والی نسل تباہ ہو جائے گی اس لئے منشیات کا خاتمہ کریں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں