71

ڈی پی او کوہاٹ کا رات گئے جرما اور استرزئی تھانے کا دورہ، دستاویزات اور دیگر جگہوں کی چیکنگ 

ڈی پی او کوہاٹ کا رات گئے جرما اور استرزئی تھانے کا دورہ، دستاویزات اور دیگر جگہوں کی چیکنگ 

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ کیپٹن(ر)واحد محمود نے رات کے اوقات میں مختلف تھانوں کا اچانک دورہ کرتے ہوئے دستاویزی ریکارڈ چیک کئے۔ ڈی پی او نے گزشتہ شب تھانہ استرزئی اور تھانہ جرما کے دورے کے موقع پر روزنامچوں، دفاتر، مالخانوں، اسلحہ خانوں، طعام خانوں، حوالات اور پولیس کے رہائشی بیرکوں میں جاکر وہاں صفائی کی صورتحال کا معائنہ کیا۔ضلعی پولیس سربراہ نے تھانوں کے مرکزی دروازوں اور واچ ٹاورز میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کیساتھ موجود اسلحہ اور دیگر ساز و سامان کی انسپکشن کرتے ہوئے سیکیورٹی اہلکاروں کو دوران ڈیوٹی بلٹ پروف جیکٹ و ہیلمٹ کے استعمال، ہتھیاروں کی حراست و خبر گیری اور سیکیورٹی فرائض میں مناسب احتیاطی تدابیر اپنانے کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کردیں۔ڈی پی او نے تھانوں میں رکھے گئے تمام رجسٹرات باالخصوص روزنامچہ،ایف آئی آر،رجسٹر خط وکتابت،مال مقدمات و مال سرکار،تاثرات بک،کرائم وسزایابی اور بچوں وخواتین سے متعلق جرائم کے ریکارڈ پر مبنی رجسٹرات میں اندراجات چیک کئے اوربیٹ بک و اشتہاری مجرموں کے ہسٹری شیٹ کا باریک بینی سے ملاحظہ کیا۔ضلعی پولیس سربراہ نے جیل سے رہا ہونیوالے سزا یافتہ مجرمان کی نگرانی کیلئے رکھے گئے مخصوص دستاویزی فائل میں اندراجات چیک کئے اور سائلین کی درخواستوں پر مقامی پولیس کی جانب سے ہونیوالے عملدرآمد کا جائزہ لیا۔ڈی پی او نے تھانے میں درج مقدمات کی تفتیشی امور کے موجودہ صورتحال کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہوئے متعلقہ پولیس افسران کو لوگوں کے مسائل کا فوری حل تلاش کرنے اور پولیس کیساتھ وابستہ تمام امور میں عوام کو بھر پور ریلیف فراہم کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔تھانوں کے دورے کے دوران ڈی پی او نے پولیس عملے کو ہدایت کی کہ وہ عوام کیساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور تھانے میں آنے والے سائلین باالخصوص مظلوم کی داد رسی کیلئے اپنی خدمات پیش کریں اور ایسی قباحتوں اور افعال سے دور رہیں جو انکی اخلاقی قدروں اور مقدس پیشے پر سوالیہ نشان بنتی ہوں۔ڈی پی او کیپٹن(ر)واحد محمود نے تھانوں کے ایس ایچ اوز، محرر سٹاف اور دیگر متعلقہ پولیس افسران کو یہ بھی ہدایت کی کہ تھانوں کا ریکارڈ پولیس رولز کے عین مطابق مرتب رکھیں اور زیر تفتیش مقدمات میں جدید طرز تفتیش سے استفادہ یقینی بنائیں۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ کرپشن وتشدد اور غیر قانونی حراست کسی طور قابل قبول نہیں اور نہ ہی کسی کیساتھ ناانصافی و عوامی مسائل سے پہلو تہی برداشت کی جائے گی بلکہ پولیس کو مکمل طور پر غیر جانبدار رہتے ہوئے ہر کام میرٹ اور قانون و انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں صرف اور صرف عوامی خدمت کیلئے بروئے کار لانے ہونگے۔

شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں