57

ڈی آر سی کوہاٹ کا اجلاس، ڈی ایس پی صنوبر شاہ نے اجلاس کی صدارت کی 

ڈی آر سی کوہاٹ کا اجلاس، ڈی ایس پی صنوبر شاہ نے اجلاس کی صدارت کی 

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ کیپٹن(ر)واحد محمود کی خصوصی ہدایت پر تنازعات کے حل کونسلوں کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔ ڈی آر سی کوہاٹ اور درہ آدم خیل کے مشترکہ پینلز کے اجلاس کی صدارت ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر صنوبر شاہ کررہے تھے۔اجلاس میں ڈی آر سی کوہاٹ کے چئرمین اعظم خان، چئرمین درہ آدم خیل ڈی آر سی ملک ہدایت اللہ آفریدی، ڈسٹرکٹ خطیب کوہاٹ مفتی شفیع اللہ، ڈی آر سی کے کوآرڈینیٹر شاہد زمان، کیپٹن(ر) فیروز خان، مطاہر شاہ اور درہ آدم خیل اور کوہاٹ کے تنازعات کے حل کونسلوں (ڈی آر سیز) کے اراکین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ایس پی صنوبر شاہ نے کہا کہ ڈی آر سی پختونوں کے روایتی جرگہ کلچر کا آئینہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ تنازعات کے خاتمے سے ہی دیرپاء امن قائم ہوسکتا ہے۔کوہاٹ میں تنازعات کے حل کونسل نے قلیل وقت میں زر، زن اور زمین سمیت لوگوں کے ہزاروں تنازعات فریقین کی باہمی رضامندی سے حل کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ڈی ایس پی نے اجلاس کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ میرٹ اور قانون وانصاف کے تقاضوں اور مقامی روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کے باہمی تنازعات خوش اسلوبی سے حل کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں تاہم ڈی آر سی میں دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران فریقین سے مچلکے لینے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔اجلاس سے ڈسٹرکٹ خطیب مفتی شفیع اللہ، چئیرمین درہ آدم خیل ڈی آر سی ملک ہدایت اللہ اور ڈی آر سی کوآرڈینیٹر شاہد زمان نے بھی خطاب کرتے ہوئے ڈی آر سی درہ آدم خیل کا قیام باعث مسرت اور پولیس افسران کی قبائلی عوام کیساتھ محبت اور شفقت کا مرہون منت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام امن پسند اور محب وطن شہری ہیں جنہوں نے ہمیشہ سے عوامی تنازعات مقامی سطح پر افہام وتفہیم سے حل کئے ہیں۔انہوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ڈی آر سی کے کردار اور مہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے واضح کردیا کہ بے شک صلح ہی میں خیر ہے اور آپ لوگوں کے دلوں کو جوڑنے والا ایسا کام کررہے ہیں جوکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین زریعہ ہے۔اس موقع پرڈی آر سی کوہاٹ اور درہ آدم خیل کے اراکین نے فلاح انسانیت کیلئے کام کرنے کاعزم دہرایا۔انہوں نے قبضہ مافیا اور دوسروں کے حقوق کی پامالی میں ملوث ظالموں کا ہاتھ روکنے اور مظلوموں کی داد رسی کیلئے اپنی خدمات شریعت اور اسلامی نظام عدل کے مطابق انجام دینے کا اعلان کیا۔

شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں