34

ضم شدہ اضلاع کے لیے تعلیمی بہتری کے لیے 36 ارب روپے مختص 

ضم شدہ اضلاع کے لیے تعلیمی بہتری کے لیے 36 ارب روپے مختص 

ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے امسال 36 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں 22 ارب روپے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ جبکہ بقایا رقم 10 سالہ ترقیاتی منصوبے کے تحت اس سال کیلئے مختص ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس بجٹ میں ڈراپ آؤٹ ریشو کم کرنے کیلئے سیکنڈری لیول پر 35 ہزار طلباء اور طالبات کو ماہانہ ایک ہزار روپے وظیفہ پرائمری لیول پر 7 لاکھ طلباء اوطالبات کو 500 روپے ماہانہ کے حساب سے وظیفہ دیاجائیگا۔ جبکہ سکولوں میں فرنیچر کی فراہمی، پینے کے صاف پانی، باونڈری والز کی تعمیر، کلاس رومز کی مرمت اور اضافی کمروں کی تعمیرکیلئے بھی خطیر رقم مختص ہیں۔ وہ محکمہ تعلیم ضدہ شدہ قبائلی اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر محکمہ تعلیم ضم شدہ اضلاع ہاشم خان آفریدی، پلاننگ آفیسر مشرف خان اور ایٹا کے نمائندے اور محکمہ تعلیم کے دیگر حکام بھی موجود تھے۔ ضیاء اللہ خان بنگش نے قبائلی اضلاع کیلئے مشتہر شدہ آسامیوں پر تعیناتی کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل کو جلد ازجلد مکمل کیاجائے تاکہ چھٹیوں کے بعد سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری ہوسکیں۔ انہوں نے قبائلی اضلاع میں شروع کردہ منصوبوں کے حوالے سے کہاکہ وہاں کے سکولوں میں 500 پلے ایریاز، 200 آئی ٹی لیبز اور 200 سائنس لیبز بھی بنائے جائیں گے تاکہ قبائلی اضلاع کے طلباء اور طالبات کو بھی وہ تمام تر بہترین تعلیمی سہولیات میسر ہو سکیں، جو ان کا بنیادی حق ہے۔ ضیاء اللہ خان بنگش نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی محمود خان کے ہدایات کی روشنی میں قبائلی اضلاع کے تعلیم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کے محرومیوں کا ازالہ کرنے کیلئے ہم نے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر رکھا ہے اور ان جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے عوام محکمہ تعلیم میں بہت بڑی اور اہم تبدیلی دیکھیں گے۔ مشیر تعلیم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیاکہ 10 سالہ ترقیاتی منصوبے کے تحت تمام نئے ضم شدہ اضلاع میں محکمہ تعلیم کی بہتری کیلئے اور بھی کئی اہم منصوبے شامل ہیں۔

شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں