59

پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں اور قومی وحدت ہماری سرخ لکیر ہے، شہریار آفریدی

پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں اور قومی وحدت ہماری سرخ لکیر ہے، شہریار آفریدی

پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں اور قومی وحدت ہماری سرخ لکیر ہے جسے کسی کو پار کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔
وزیر برائے سیفران و انسداد منشیات شہریار آفریدی کا افغان مہاجر کیمپ کا دورہ اور مہاجرین کے ساتھ عید منائی

وزیر سیفران و انسداد منشیات شہریار آفریدی نے کوہاٹ افغان مہاجرین کیمپ میں ان سے خطاب کے دوران کہا کہ
اللہ و رسول کے بعد یہ دھرتی میرے لئے بہت مقدم ہے، یہ میرا ایمان و عقیدہ ہے۔

چالیس سال سے ہم پاکستانی قوم نے افغان مہاجرین کو گلے لگائے رکھا ہے۔ اپ کی عزت نفس کا خیال رکھا ہے برابری کی سطح پر پاکستانی قوم افغان مهاجرین کیساتھ ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑی رہی۔

ہماری حکومت میں افغان مہاجرین کی تمام مشکلات کو خوش اصلوبی سے حل کیا جارہا ہے۔ میں تمام افغان مہاجرین بزرگوں کو وقتا فوقتا اپنے دفتر میں اور مختلف کیمپوں میں بذات خود جاکر انکے مسائل سن رہا ہوں اور UNHCR کیساتھ ملکر مکمل طور پر اپ کے حل طلب مسائل کے لیے کوشاں ہیں۔

لیکن سن لیں کبھی بھی میرے وطنِ عزیر کو گالی نہیں دینا کبھی بے عزتی کا نا سوچنا، ہمیشہ عزت کرنا۔ سبز ہلالی پرچم میرا فخر هے میری عزت ہے، میرے فخر کی کبھی تزلیل نا کرنا۔۔
اور تیسری اہم بات، یہ ملک میر امکمل وجود ہے. پنجاب میرا ماتھا ہے، سندھی میرے کان ہیں، بلوچ میری زبان ہے، کشمیر میرا بازو ہے، گلگت بلدستان انکھیں ہیں، پختوں میرا جسم ہے
میں مکمل پاکستان ہوں اس وجود کے ہر حصے کا احترام کرنا ہوگا۔

پچھلے چالیس سال سے میرے ملک و قوم نے کئی نشیب و فراز دیکھے، میرے ملک نے بدامنی سے لیکر معاشی بدحالی، امن و امان اور کئی طرح سے مشکلات دیکھی، برداشت کی، خود پر سہا لیکن ہم نے اپ(مہاجرین) پر اس کا اثر ہونے نہیں دیا، ہم نے اپ کا ہاتھ تھامے رکھا ہم نے مہمانوازی پر کوئی حرف و انچ نہیں انے دی، ہم نے ہمیشہ مہاجرین بھائیوں کو عزت دی۔ یہ ملک اپ کا مہمان خانہ ہے، اس کی عزت و ناموس و وقار کی رکھوالی اپ کا اخلاقی فرض ہے۔

میرے ملک میں دہشتگردی کا ایک طویل دور گزرا، اے پی ایس کا المناک واقعہ ہوا، بازاروں، مسجدوں، امام بارگاہوں میں دھماکے ہوئے دہشتگردی ہوئی، میری قوم نے کبھی مڑ کر افغان مہاجرین کو کوئی ایسا تاثر نہیں دیا۔ ہم آپس میں ایک نبی کی امت ہیں، دشمنوں کے شر کو سمجھنا ہوگا۔ اور مل کر مسلم امت اور پوری دنیا کے لئے خیر کا ذریعہ بنیں گے۔

شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں