505

پشاور کے بی آر ٹی منصوبے میں مزید نقائص سامنے آ گئے

پشاور کے بی آر ٹی منصوبے میں مزید نقائص سامنے آ گئے

اسے کوتاہی کہا جائے یا بد قسمتی لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ یا بی آر ٹی منصوبے سے باوجود کوششوں کے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ یہ منصوبہ اس کے لیے مسلسل بدنامی کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے تاخیر کا شکار پشاور شہر کے سب سے بڑے پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے بس ریپڈ ٹرانزٹ یا بی آر ٹی کی مرکزی کوریڈور پر تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا تھا لیکن حالیہ دنوں صدر کے علاقے میں اس میں پھر سے کچھ تعمیراتی نقائص سامنے آئے ہیں جس کے بعد سے حکومت پھر سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ پشاور صدر کے علاقے میں حالیہ دنوں میں معلوم ہوا کہ سنہری مسجد کے قریب واقع موڑ پر 18 میٹر کی بسیں مڑ نہیں سکتیں لہذا وہاں سڑک کشادہ کرنے کے لیے پھر سے تھوڑ پھوڑ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ مقام پر بھاری مشینری پہنچا دی گئی ہے جہاں مزدور کام کرتے ہوئے نظر آئے۔ سائٹ پر موجود ایک انجینئر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ بسوں کی ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران معلوم ہوا کہ سنہری مسجد موڑ سے بڑی بسیں نہیں گزر سکتیں اس لیے اسے پھر سے توڑ کر دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذکورہ مقام پر کوریڈور کی کشادگی کے لیے اب نئے ستون تعمیر کیے جا رہے ہیں جس سے یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ گذشتہ تقریباً دو ماہ کے دوران یہ دوسری مرتبہ ہے کہ بی آر ٹی منصوبے میں تعمیراتی نقائص کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس سے پہلے تہکال کے علاقے میں بس سٹیشنوں کے قریب تعمیر شدہ کوریڈور میں خرابیوں کی نشاندہی کی گئی جس کے بعد جنگلوں کو توڑ کر سڑک کشادہ کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ خیبرپختونخوا حکومت کی معائنہ ٹیم کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بی آر ٹی منصوبہ جلد بازی میں شروع کیا گیا، اس کی منصوبہ بندی ناقص تھی جبکہ اس کے ڈیزائن بناتے وقت سنگین نوعیت کی کوتاہیاں کی گئی۔ معائنہ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی ڈیزائننگ کے لیے غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں جس کے لیے ان کو تقریباً ایک ارب روپے سے زیادہ رقم دی گئی لیکن اس کے باوجود منصوبے میں کئی نقائص سامنے آ رہے ہیں۔ خیال رہے کہ بی آر ٹی منصوبہ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی حکومت میں شروع کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو چھ ماہ میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا لیکن ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود بھی یہ منصوبہ بدستور التوا کا شکار ہے۔ موجودہ وزیراعلیٰ محمود خان نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ 23 مارچ کو ہر صورت اس منصوبے کا افتتاح کریں گے لیکن حکومت اس دعوے میں بھی ناکام رہی۔ بعد میں وزیراعلیٰ نے تاخیر کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دیا اور چند افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے تقریباً 68 ارب روپے پر مشتمل اس منصوبے کے بارے میں ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے لیکن پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر اس رپورٹ کو سیل کر دیا گیا ہے تاکہ یہ منصوبہ مزید تاخیر کا شکار نہ ہو۔

شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں